نئی دہلی;26/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ا یس انڈیا)وزارت داخلہ نے ایوان میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں پورے ملک میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ واقعات اتر پردیش میں ہوئے ہیں۔وزارت داخلہ کے جواب کے مطابق گزشتہ سال یوپی میں کل162فرقہ وارانہ واقعات ہوئے،جبکہ اسی دوران راجستھان میں 63اور مدھیہ پردیش میں کل 57فرقہ وارانہ واقعات ہوئے۔دراصل راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی کے ایم پی نریش اگروال نے وزارت داخلہ سے پوچھا تھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، ہریانہ اور راجستھان میں گزشتہ 3سالوں میں فرقہ وارانہ واقعات میں دگنا اضافہ ہوا ہے؟ اس کے علاوہ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ گزشتہ 3سالوں کے دوران ان ریاستوں میں فرقہ وارانہ واقعات کی تفصیلات بھی مانگی تھی۔اس کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ کرن رججو نے ایوان میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، ہریانہ اور راجستھان میں سال 2014، 2015 اور 2016کی فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد کی تفصیلات ایوان میں رکھا۔ایوان میں رکھے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2014، سال 2015اور سال 2016میں اترپردیش فرقہ وارانہ واقعات کے معاملے میں ٹاپ پر رہا۔اعدادوشمار کے مطابق اتر پردیش میں سال 2014میں 133، سال 2015میں 155اور سال 2016میں 162فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد درج کی گئی۔وہیں مدھیہ پردیش میں سال 2014میں 56، سال 2015میں 92اور 2016میں 57فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد درج کی گئی۔اسی مدت کے دوران مہاراشٹر میں 2014میں 97، سال 2015میں 105اور سال 2016میں 68فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد درج کی گئی،جبکہ ہریانہ میں فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد سال 2014میں 4، 2015میں 3اور سال 2016میں صرف 2رہی۔راجستھان میں فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد سال 2014میں 72، سال 2015میں 65، 2016میں 63رہی۔